خالہ زاد
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - خالہ کی اولاد۔ "اپنے خالہ زاد بھائی کے نواسوں کو اپنی اولاد کی طرح اپنے پاس رکھا۔" ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ١٢٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خالہ' کے ساتھ فارسی مصدر 'زادن' کی علامت مصدر ہلا کر صیغہ ماضی مطلق 'زاد' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے مرکب 'خالہ زاد' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٣٨ء، کو "حالات سرسید" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خالہ کی اولاد۔ "اپنے خالہ زاد بھائی کے نواسوں کو اپنی اولاد کی طرح اپنے پاس رکھا۔" ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ١٢٥ )